✍️آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھتا ہے اور قرآن سکھاتا ہے۔
✍️انسان ان دونوں چیزوں میں سے کسی میں ضرور ہو۔
✍️ان دونوں میں سے کسی ایک میں بھی نہ ہونا بہت بڑی بد نصیبی ہے۔
✍️کوشش کی جائے کہ قرآن سکھانے کی طرف آیا جائے ورنہ قرآن سیکھنے والوں میں شامل ہوا جائے۔
💥آیت نمبر 17 اور 18💥
💥ترجمہ
بے شک اہل ایمان یہودی ستارہ ۔۔۔۔۔الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️آیت نمبر 18 آیت سجدہ ہے جس نے بھی سنا ہم دونوں پہ سجدہ واجب ہوگیا۔
✍️پہلی آیت
✍️قیامت کے دن میں خود فیصلہ کرونگا یہودیوں میں عیسائیوں میں ۔۔۔۔
✍️ان تمام کے جو بھی معاملات ہیں وہ میری نظر میں ہیں
✍️یہودیوں کے ستاروں کو پوچنے والوں کے اللہ فرماتا ہے کہ کسی کو بھی میں اجازت نہیں دیتا کہ یہ سب جہنم میں جائینگے ان سب کا میں خود ہی فیصلہ کرونگا۔
✍️یہ اللہ کا کام ہے اللہ خود فیصلہ فرمائیگا۔
✍️اللہ خود اپنے کامل علم کے مطابق اس کے مطابق اللہ فیصلہ فرمائیگا
✍️ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ قیامت کے دن اس کا عمل دیکھ کہ اسے جنت عطا فرمائے
✍️اس لیے اپنی زبانوں کو اس حوالے سے ہمیشہ کنٹرول میں رکھنا چاہئیے لوگ وہ فیصلے بھی خود کر رہے ہیں جو اللہ نے کرنے ہیں
✍️بے شک اللہ ہر چیز کا مشاہدہ فرمارہا تم تسلی رکھو کہ میں ہر ایک پہ نگاہ رکھے ہوئے ہوں۔
✍️کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کو سجدہ کر رہی ہے۔
✍️سورج ستارے چاند پہاڑ درخت جانور انسانوں میں بھی بہت سارے لوگ اللہ کو سجدہ کر ریے ہیں۔
✍️اس آیت کریمہ میں بہت بڑا راز کھولا یہ وہ عظیم آیت یے جب یہ آیت کریمہ اتری حضور صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے ہی کھڑے ہوگئے اور فوراً سجدہ کیا۔
✍️اور جس طرح اللہ نے ذکر کیا جس طرح اللہ نے سورج کا سجدہ کا فرمایا
آقا علیہ السلام نے فرمایا
✍️سورج جب غروب ہوتا ہے تو یہ اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوجاتا ہے کہ اب کیا حکم ہے تو طلوع ہونے کا حکم ہوتا ہے تو سورج دوبارہ مشرق میں پہنچ جاتا ہے اور طلوع ہوتا ہے۔
✍️قیامت کے دن اللہ سورج سے فرمائیگاتو آج یہیں رہیگا یہیں سے تو نے طلوع ہونا ہے قیامت کے دن سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔
✍️اسی طرح چاند بھی جب اپنی آخری تاریخوں میں آتا ہے تو دوبارہ سے طلوع ہونے کی اجازت مانگتا ہے تو یکم کو طلوع ہوتا ہے۔
✍️پہاڑوں کا سجدہ کیا ہے بے حس و حرکت ہیں سورہ نحل کے اندر اس کا ذکر کیا کہ جو تم پہاڑوں کا سایہ دیکھتے ہو وہ اصل میں پہاڑ کا سجدہ ہے۔
✍️یہ درخت بھی اپنے سایوں کے ذریعے ہی اللہ کو سجدہ ریز ہوتے ہیں
✍️جانور بھی جب ذمین پہ سر رکھتے ہیں تو یہ سجدہ کرتے ہیں۔
✍️سجدہ کا جو مقام حاصل ہے وہ دین میں ڈھکا چھپا نہیں
✍️تمام دین کی عبادات کا مقام بھی سجدہ ہے۔
✍️رکوع ایک رکھا سجدے دو رکھے ہیں
✍️سجدہ اللہ کو اتنا پسند ہے کہ اللہ نے اپنے بندے کو صرف اس کی اجازت دی
✍️ایک بندہ بار بار سجدہ کرسکتا ہے اور جتنی بار چاہے سجدہ کرسکتا ہے تو جب چاہے سجدہ کر
نمازوں کے اندر تو رکھے ہی گئے سجدے اور جب کوئی بہت بڑا معاملہ بنے تو سر کو جو سجدے میں رکھ کے دعا کی جاتی ہے تو اللہ قبول فرماتا ہے
✍️جب کوئی انسان سجدہ کرتا ہے تو اللہ فرشتوں کے آگے فخر کرتا ہے اے فرشتوں اس نے سجدہ کیا جب کوئی بندہ سجدے میں ہوتا ہے تو اس کے سارے گناہ جسم سے اتار دو تو اس کے گناہ سارے جسم سے علیحدہ ہوں۔۔
✍️فرشتے فرماتے ہیں کہ کچھ گناہ اس کے کندھے سے گر گئے کیا دوبارہ اس کے کندھے پہ رکھ دیں فرمایا جو گر گئے ہیں وہ گرے رہنے دو۔
✍️لمبا سجدہ کرنا سجدے میں تسبیحات پڑھنا نماز میں تسبیحات پڑھنا بہت ساری تسبیحات پڑھی جاسکتی ہیں لہذا سجدے کی عبادت کو جس طرح سے پسند کیا گیا اللّٰہ والوں نے تو یہ کہا کہ جس کو زیادہ سجدہ کرتے دیکھو تو سمجھو اللہ نے اسے اپنا بنا لیا۔
✍️لمبا سجدہ کرنا اللہ کی قربتوں کی اعلیٰ ترین علامت میں سے ہے۔
✍️تو سجدے کے حوالے سے ایک اور حدیث ہے۔
جب کوئی سجدہ کرتا ہے شیطان بہت واویلا کرتا ہے کہ بنی آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور دیکھو فرشتے معتبر بن گئے تو میں ذلیل و خوار ہوگیا۔
✍️انسان کو نماز سے بھٹکا کہ انہیں سجدے سے روکتا ہے یہ عزت والی عبادت ہے۔
✍️انسان جو اپنی اشرف ترین اعضاء ہیں سب سے جو حسن والے اعضاء ہیں وہ اللہ نے انسان کے چہرے پہ رکھے ہیں چہرے کے اندر ہیں ۔
✍️پورا چہرہ اشرف ترین اعضاء ہیں اور سب سے بڑا عضو دماغ ہے
✍️کمال عبادت دی گئی جب اللہ سجدے کا حکم دیتا ہے تو ایک لفظ وہ کہ رہا ہوتا ہے کہ دیکھ میں سب کچھ زمین پہ رکھ دیتا ہوں یہ اتنی بڑی نعمتیں ہیں کہ اس سے خوبصورت چیزیں کسی مخلوق کو نہیں دی گئیں
✍️انسان کی آنکھیں الگ ہیں کان جانوروں کے بھی ہیں لیکن انسان کے کان الگ ہیں۔
💥حدیث قدسی
✍️میرے بندے کے چہرے پہ کبھی نہ مارو کیونکہ بندے کا چہرہ میرے چہرے پہ بنایا گیا ہے۔
✍️میں جس طرح کا اپنا حسن رکھتا ہوں چہرے کو زخمی کرنا یہ میرے اپنے حسن کے اوپر ہے۔
✍️کتنی حسین چیز بندے کو عطا فرمائی اس سے بڑی کوئی عاجزی نہیں ہو سکتی ہے قیام کرلیں رکوع کرلیں جو مزہ سجدے میں ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا
✍️قرآن نے کہا مجھے یہی چیز یہی پسند ہے اور میں یہی چیز کائنات کی تمام مخلوق سے کروا لیتا ہے اللہ بڑا پسند کرتا ہے
✍️سجدے کو بزرگوں نے ایک اور لفظ بھی بولا ہے یہ ایٹم بم سے بھی زیادہ طاقت رکھتاہے جو سجدے کی قوت کو سمجھتے ہیں وہ لوگ سجدے میں جا کر بڑی بڑی چیزیں لے لیتا ہے۔
💥حدیث
جب کوئی سجدہ کرتا ہے تو اس کا سر مصلی پہ نہیں ہوتا اس کا سر اللہ کی رحمت کی گود میں جاتا ہے۔
✍️جس کا سر اللہ کی رحمت کی گود میں ہو تو کیا اللہ واقعی خالی اٹھنے دیتا ہے ایک ماں کی گود میں بچہ سر رکھے تو کیا وہ قربان نہیں جاتی جتنے جوگی ہوگی وہ دیگی اسے یہ مجھے چاہئیے یا یہ میری ڈیمانڈ ہے سر گود میں رکھ کہ ماں سے کہا جائے
تو یہ اصل میں مسئلہ یہ ہے
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا تیرا دل تو ہے صنم آشنا
تجھے کیا ملیگا نماز میں۔
✍️ہمارے بے روح سجدے پھکے سجدے جس سے کوئی برکت پیدا نہ ہو آنسو پیدا نہ ہو چاشنی نہ ہو تو ایسے سجدے کیا؟
✍️علامہ نے اشارہ کیا
وہ اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
✍️جگہ جگہ جا کے جو تجھے سجدے کرنے پڑتے ہیں نا۔
اگر تو ایک صحیح سجدہ کرلے تو ہزار سجدوں سے بچ جائے۔
✍️یہ بڑی خوبصورت عبادت ہے اس کی بڑی عزت ہے۔
✍️بندہ اپنے اشرف اعضاء زمین پہ رکھتا یے حد ہوگئی
✍️اب کیا ہوتا ہے جب وہ اشرف اعضاء اٹھتے ہیں نہ زمین سے تو وہ اللہ کی برکت لے کر اٹھتے ہیں۔
✍️اللہ کی رحمت گود سے اٹھ کر آیا ہے۔
✍️اب زندگی بدلنا شروع ہوجائیگی
✍️کان اچھا سنیں گے آنکھیں اچھا دیکھینگی
✍️پیشانی ہمیشہ اللہ کے سامنے جھکیگی
✍️سجدہ بہت بڑی چیز ہے اس پہ جو برکتوں کا وعدہ ہے جو اللہ کی رحمت کی گود میں گیا
96 سجدے ایک دن میں یعنی ایک شخص ایک دن میں 96 بار اللہ کی رحمت کے گود میں گیا۔
✍️ماں کی گود میں رکھ دے نا کوئی عزت سے دو بار رکھ دے ماں تڑپ اٹھیگی تیسری بار رکھیگا تو ماں کہیگی میں قربان تین انداز ایسے گود میں رکھنے والے میرا رب چھیانوے بار تمہیں اپنی گود میں سر رکھواتا ہے۔
✍️کہ اگلے ہی دن تمہاری زندگی نہ بدل جائے تمہارے حالات نہ ٹھیک نہ ہوں۔
✍️مجھے تو یوں لگتا ہے ہم سجدہ کرتے ہی نہیں ہیں۔
✍️تجھے کون بتائیگا کہ سجدہ رحمت کی گود میں کرنا ہے یہ تمہیں تمہارا مرشد بتاتا ہے۔
✍️صاحبِ نظر صاحبِ کمال بتاتا ہے کہ سجدہ یوں کیا جاتا ہے اور ایسے لوگ جو ہیں ایک سجدہ جو کرتے ہیں اللہ و رسول کی بارگاہ میں یوں مقبول ہوتے ہیں اللہ اپنے دستِ مقدس پہ بھی لے لیتا ہے۔
✍️میں اپنے حضرت آپ سے کثیر وقت میں سجدے کو سیکھا طویل وقت آپ سے گفتگو کی گئی۔
✍️کس طرح رحمت کی گود والا ہوتا ہے کئی ڈسکشنز کے بعد تسلی ہوئی کہ اب وہ سجدہ ہوا۔
✍️آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ جب حشر کے دن جلوہ سامنے لائیگا تو ساری مخلوق دیکھتے ہی بغیر کسی چاہت کے خود بخود سجدے میں چلی جائیگی۔
💥نکتہ
✍️مطلوب ہی یہ تھا
✍️مطلوب ہی سجدہ ہے اور اس وقت بہت سارے لوگ سیدھے کھڑے ہونگے وہ بھی کہیں گے مجھے بھی سجدے کی توفیق مل جائیگی کمر بھی سریے کی طرح سیدھی ہوجائیگی
✍️جواب آئیگا یہاں نہیں جنہوں نے دنیا میں نہیں کیا وہ یہاں نہیں کرسکتے تم دنیا میں نہیں کرتے تھے آج یہاں دیکھ کے بھی نہیں کرسکتے۔
✍️یہ بڑا نازک معاملہ ہے حشر کے دن کا سجدہ اصل میں یہاں سجدہ ہورہا ہے وہ حشر کا سجدہ ہے جو تم یہاں کر رہے ہو سمجھ لو حشر میں کر رہے ہو۔
✍️قرآن نمازیوں کے بارے میں بڑا واضح ہے بے شمار نمازی ایسے وہ اپنی نمازوں سے غافل ہیں اپنی نمازوں کو بھلا بیٹھے ہیں
✍️وہ ایسے ہی نماز پڑھتے ہیں بس جیسے ایک بیل کو باندھ دیں تو گنے کی رو نکالتا جا بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے مسجد جاناسجدے کی کوئی برکت ان کے پاس نہیں ہوتی۔
✍️اللہ ہمیں تر آنکھوں والے اور تر دلوں والوں میں شامل فرمائے آمین
✍️غزوہ بدر حضور نے کیا کچھ نہیں کیا مکے کی سخت ترین گرمی تین سو تیرہ لوگوں کو لے کر آپ سترہ رمضان شریف کو روزے کی حالت میں جب وہاں پہنچے سترہ رمضان کی رات حضرت ابو بکر صدیق رض فرماتے ہیں حضور نے ساری رات دعا میں گزاری حضور جاگ کر دعا کرتے رہے صبح ہوئی جب لشکر آمنے سامنے آگئے حضور اچانک مڑے اور چھپر کے نیچے چلے گئے۔
حضور اندر داخل ہوئے حضور مجھ سے پہلے ہی سجدے میں جا چکے ریت پہ سجدہ کیا مسلسل دعا کر رہے ہیں اے اللہ فتح دیدے مسلمانو کو حضور سجدے میں رونے لگے ہچکیاں لے لے کر رو رہے ہیں کہ میں نے فرمایا بس کردیں کافی ہوگیا حضور مسلسل دعا فرما رہے ہیں
حضور اٹھے اپنے ہاتھ سینے تک اٹھائے اے اللہ مدد فرما ہاتھ اونچے کر لیے چادر زمین پر آنے لگی میں نے پکڑ لی پھر حضور سجدے میں چلے گئے یہاں تک کہ مجھے یوں لگا کہ آپ کی موت ہی نہ واقعہ ہوجائے ابو بکر مبارک ہو اللہ نے جبرئیل کی قیادت میں ہزار فرشتے نازل فرمائے مولا مدد فرما مدد کر
✍️میں یہاں سوال کرتا ہوں آپ سے کہ حضور کیا کر رہے ہیں کیا یہ سجدہ مسجد نبوی میں نہیں ہوسکتا تھا آپ آئے ہیں بدر کے میدان پہ اس ریت پہ سجدہ کیا ہے کہ اللہ کے ہاں سجدے کے ویلیو میں فرق پڑجائے۔
ایک سجدہ یہاں ہورہا ہے ایک سجدہ حرم میں کعبہ کے سامنے کریں فرق پڑیگا۔
✍️وہ ایک لاکھ سجدے جتنا ثواب دیگا اس کا مطلب ہے سجدے بھی الگ الگ ہیں
✍️ بعض اوقات انسان دکھی ہوتا ہے دکھے دل کے ساتھ سجدہ کیا گیا میرا نبی روتا ہے تو اٹھتا ہے تو فرماتے ہیں کہ ہزار فرشتہ آیا۔
حضور نے دوسرا سجدہ فرمایا مبارک ہو اسرافیل بھی دو ہزار فرشتہ لے کر آگیا۔
پھر سجدے میں چلے گئے
💥مطلب
✍️اللہ سے نعمتیں بڑی بڑی لینا چاہتے ہو سجدے زیادہ کردو ۔
✍️پھر تیسرا سجدہ کیا تو فرمایا ابو بکر تین ہزار فرشتہ آگئے
حضور فرمانے لگے اس طرف شیطان ہے جب تک رحمن نہیں آجاتا تب تک میں راضی نہیں ہونگا حضور پھر سجدے میں چلے گئے
چہرے پہ اتنی خوبصورت مسکراہٹ آئی فرمایا مبارک ہو اللہ بھی شامل ہوگیا ہے
✍️یوں مسئلے حل ہوتے ہیں
✍️اللہ یوں تمہاری پریشانی حل کرتا ہے
✍️جب چوتھا سجدہ فرمایا تو اب اللہ بھی ہمارے ساتھ یے
✍️جب بھی کبھی ایسا موقع آئے کوئی ضرورت نہیں وضو کی اٹھو سجدے میں چلے جاو۔
✍️پہلے دو نفل ان شاءاللہ کوئی مسئلہ بنا دو نفل۔
✍️تاکہ اللہ راضی ہوجائے سجدہ اس نے مجھے کردیا ہے
✍️یہ ساری مجھے ہی سجدہ کرتی ہیں
💥بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا ہے اور جسے اللہ ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے
✍️ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ سجدے کی توفیق چھین نہ لے کہیں
✍️سجدہ ہوا تو مجھے اس کو عزت دینی ہے تو اللہ اسے سجدے سے ہی محروم کردیتا ہے کیونکہ ایسی حرکتیں ہیں اس کی اس لیے اپنی اولادوں پہ رحم کرو۔
✍️جس کو اللہ ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے اللہ جو چاہتا ہے خود ہی کرلیتا ہے نہ آو اس کے سامنے نہ آو اس کے سامنے جو چاہتا ہوں میں کرلیتا ہوں یہ سب تمہارے لیے تھا خوش نصیب ہیں وہ پیشانیاں جو سجدے پہ ٹکتی ہیں ۔
✍️میرے لوگوں میں سے بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو مجھے سجدہ کرتے ہیں اس عبادت کو بڑے دھیان سے کرو۔
✍️جب آپ نماز پڑھیں تو اپنےسجدے کو تھوڑا لمبا کریں تین تسبیح سے آگے بڑھو تاکہ سنت سے آگے کا بھی ثواب مل جائے
✍️ایسا مزہ آئیگا کہ سجدہ سے سر ہی نہ اٹھے جب انسان سجدہ کرتا ہے زمین نیوٹرل ہے پیشانی میگنیٹ ہے نیوٹرل چارج دماغ میں جذب کرتی ہے اس کی وجہ سے سکون پیدا ہونا شروع ہوجاتا یے۔
✍️اور اتنا زیادہ وہ سکون میں رہتا ہے سجدہ کرکے اٹھتے ہیں تو آپ کی کیسے طبیعت مزیدار ہوتی ہے۔
✍️انسان کو وہ برکت نصیب ہوتی ہے۔
اللہ توفیق دیدے آمین
وما علینا الاالبلاغ المبین 💥


0 Comments