Boxed(True/False)

header ads

Allama Iqbal اقبال رحمتہ اللہ علیہ



 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    *خودی سے حقیقت تک کا سفر*


علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش کے موقع پر پر آپکی صوفیانہ کلام سے آگاہی ذات اقدس تک اگر لب کشائی نہ کی جائے تو ہم آپ کے کلام کے جو ہر جگہ استعمال کرتے ہیں اس سے یہ بہت بڑی بے وفائی ہے آپ نے مسلمانوں کو ان کی خودی سے حقیقت تک کے سفر کی طرف رغبت دلائی 


*خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے* 

*خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے*


ہم آپ کی ولادت باسعادت کے موقع پر آپ کی تعلیماتِ حقیقت کو آشکار کرنے کی کوشش کریں گے آپ خودی کا جو نام لے رہے ہیں وہ اصل میں خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر ہے


علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللّٰہ عنہ کے قول مبارکہ 

من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ 

جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا گویا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا پر فرماتے ہیں 


*گر خواہی خدارا شناسی*

*خودی را فاش تردیدن بیا موز*


صاحبزادے اگر تو خدا کی پہچان کرنا چاہتا ہے تو خود اپنی شناسی کا سبق سیکھ 

اب یہ خود شناسی کا سبق کون سیکھائے گا اور کیا خود شناسی سے آگے بھی جہاں ہے بلکل خود شناسی تو پہلا قدم ہے جب خودی سے آگے خودی کو بھی مٹا دیا جاتا ہے تو وہاں سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات کی پہچان و معرفت کا آفتاب طلوع ہوتا ہے 


*خودی کی جلوتوں میں مصطفائی*

*خودی کی خلوتوں میں کبریائی*

*زمین و آسمان ، کرسی و عرش*

*خودی کی زد میں ہے ساری خدائی* 


تو محترم قارئین حق جب انسان خودی کی طرف پہلا قدم اٹھا لیتا ہے تو اس پر راز کھلتا ہے کہ خودی کے اندر سے ہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے محبوب تک رسائی حاصل ہوتی ہے لیکن یہ رسائی کسی خودی کی تعلیم دینے والے کی صحبت سے ہی ممکن ہے ورنہ اس خود شناسی کی راہ میں نفس و شیطان بلکل تیار بیٹھے ہیں کہ کوئی انجان قدم رکھے تاکہ اس کو ایسے حجاب میں مبتلا کریں کہ وہ کبھی نکل ہی نہ سکے خود شناسی کے پہلے قدم پر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں


*جب اس انگارہِ خاکی میں ہوتا ہے یقین پیدا*

*تو کر لیتا ہے بال و پر روح الامیں پیدا*


جب یہ روح قدس کا حامل مکاں کا مکیں اپنے ذات کی معرفت حاصل کرتا ہے تو اس کا پہلا ہی قدم عالم ناسوت سے عالم مالکوت و جبروت میں جا پڑتا ہے اور اگر وہ صحبت کاملہ سے اس پہچان و معرفت میں مشغول رہتا ہے تو وقت آتا ہے 


*یقین پیدا کر اے غافل کہ یقین سے ہاتھ آتی ہے*

*وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھکتی ہے فغفوری*


اگر تو صحبت کاملہ جس سے تجھے خود شناسی کی دولت مل رہی ہے اس پر یقین پیدا کرے گا تو تجھے وہ کامل درویشی نصیب ہوگی جس کے سامنے ساری دنیا کے شہنشاہ جھکتے ہیں کیونکہ اس درویش کے رسائی اس فانی دنیا تک نہیں ہوتی بلکہ وہ بقا کی دنیا کا راہی ہوتا ہے


اور سنو صاحبزادے یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ تک پہچانے والا علم کبھی بھی کتابی علم نہیں ہوتا یہ حقیقت کا علم ہوتا ہے کسی باعمل صاحب منزل کی صحبت اختیار کر تاکہ تجھے بھی حال و کیفیات کی دنیا میں رسائی حاصل ہو 

سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں 


*علمے کہ راہ بدوست برد در کتاب نیست*

*ایں ہا کہ خواندہ ایم ہمہ در حساب نیست*


یار کو یار سے ملانے والا علم صاحبزادے کتابوں سے حاصل نہیں ہوتا یہ راہ کتابی علم حاصل کرنے کا نہیں ہے 


اصل علم وہ ہے تو وہ جس کیلئے وہ علم حاصل کیا جارہا ہے اس ذات پہنچا دے ورنہ سرکارِ دوعالم احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا فرمان عالیشان ہے کہ 

*" العلم حجابُ الاکبرُ "*

*علم ہی سب سے بڑا حجاب ہے*

📚 عین الفقر ص 71 


علماء سو کے جن کا علم صرف زبان تک ہوتا ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا 


( *ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر بوجھ لدا ہوا ہے  پارہ 28 الجمعہ آیت نمبر 5* )


سرکارِ دو عالم احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا فرمان عالیشان ہے کہ


*"من طلب العلم لیماري بہ السفہاء أو یصرف بہ وجوہ الناس إلیہ أدخلہ النار رواہ الترمذي (مشکاة: ۳۴)*


*جس شخص نے علم اس لیے حاصل کیا تاکہ علماء سے مقابلہ کرے یا کم علم لوگوں سے جھگڑا کرے یا لوگوں کو علم کے ذریعہ اپنی طرف مائل کرے، اللہ تعالی ایسے شخص کو جہنم میں داخل کریں گے "*


جب علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے دیکھا کہ لوگ آپ کی تعلیماتِ حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے تو فرمایا 


*اقبال یہاں نام نہ علمِ خودی کا*

*مکتب کیلئے موزوں نہیں ایسے حالات*


اقبال یہ تم کون سے لوگوں کو خود شناسی سے خدا شناسی کا سبق دے رہے ہو آجکل کے مکتب میں تو مغربی رنگ کے لوگ دلدہ ہیں اب تو موزوں نہیں نہ ہی ایسے حالات ہیں کہ ان پر علمِ حقیقت کو کھولا جائے 


*بہتر کہ بیچارے ممولوں کی نظر سے*

*پوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقامات*


اب بہتر ہے کہ کتابوں اور صحیفوں سے کی نظر خود شناسی سے خدا شناسی کی منزل پانے والے عالم لاھوت کے بازوں کے احوال و مقامات قرب ذات کو پوشیدہ رکھا جائے 


اور پھر اپنے بارے میں فرمایا جب آپ خود شناسی سے خدا شناسی کے سفر سے منزل کی قربتوں میں کھوئے ہوئے یورپ کی رنگین دنیا میں جا پہنچے 


*خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ* 

*سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف*


میں یورپ کی رنگیوں میں بھی ہوں مگر یہ رنگیاں میری آنکھوں کو اپنی طرف مائل کرکے میرا قلب گندہ نہ سکیں کیونکہ میری آنکھوں پر حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللّٰہ عنہ نے سرمہ مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لگا دیا ہے اور میرا قلب ہمیشہ مدینہ میں سرکارِ دو عالم احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی جلوتوں کی گرد طواف کرتا رہتا ہے


*زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی*

*نہ چھُوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحَرخیزی*


صاحبزادے دیکھو یہ مغرب میں ہوں یہاں شمشیر کی سی تیزی ہے اور یہ ایمان و عشق پر ایک وار کرنے کو تیار ہے لیکن دیکھو میں نے خود شناسی سے خدا شناسی کا سفر شروع کیا ہوا ہے اس لیے اس گندی دنیا میں ایک پل میں یار کی یاد سے غافل نہیں ہوں 


*پاک پلیت نہیں ہوندے یا حضرت باھو*

*چاہے وچ رہین پلیتی ھو*


اس لیے خود کو اتنا ستھرا کر یہ مغرب کی مکاری تجھ سے تیرا عشق و مرتبہ نہ چھین لے 


*فریاد ز افرنگ و دل آویزیِ افرنگ*

*فریاد ز شیرینی و پرویزیِ افرنگ*


میں اقبال فریاد کرتا مسلمانوں سے جو مغربی دنیا کی دل آویزی اور رنگیوں میں کھو گئے ہیں یہ جو اتنی خوبصورت اور شیرینی نظر آتی ہے یہ مکاری ہے اس کا کام تیرا ایمان تباہ کرنے کی جستجو ہے 


*عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزیِ افرنگ*

*معمارِ حرم، باز بہ تعمیرِ جہاں خیز*


دیکھو مسلمانوں اس سے مغربی مکاری و رنگینیوں سے پورا عالم ہی تباہ و برباد ہوگیا ہے مگر اے حرم کی تعمیر کرنے والے مسلمان دیکھ خود کو پہچان خود کی پہچان کر  اور دوبارہ سے ایک نیا جہانِ ایمانی تیار کرنے کو اٹھ کھڑا ہو 


*از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں* 


صاحبزادے تو خواب غفلت میں پڑھا ہوا ہے دیکھ اب وقت آگیا ہے اٹھ جا اس گہری نید سے اٹھ جا یہ بہت گہری نیند ہے مگر تو اٹھ جا اگر اٹھے گا تو ہی خود شناسی سے خدا شناسی کا سفر کرکے تو حقیقت مسلماں کو پہنچے گا


*اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی خود شناسی سے خدا شناسی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عنایت فرمائیں ہمیں خودی سے حقیقت تک کا سفر کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں ہمیں ایسا رہبر و رہنما عنایت فرمائیں جس کی صحبت ہم پر ہمارے نفس کی کوتاہیاں و خرابیاں عیاں کر دے جس سے ہم خود شناسی میں قدم رکھ کر اپنی ذات و خودی کو فنا کرکے بقا میں قدم رکھ دیں آمین ثم آمین یارب العالمین*🌹

 

✍️Writer Mohammed Rizwan

 quadri



💬 English translation


In The Name of Allah, The Most Beneficent, The Most Merciful

 

   *Journey from Self to Reality*


On the occasion of the birth of Allama Muhammad Iqbal, may God bless him and grant him peace, if the awareness of your mystical speech is not extended to the Holy One, then it is a great disloyalty to the Muslims who use your speech everywhere. Alluring towards their journey from self to reality


*Raise yourself so high that before every destiny*

* Ask the servant of God himself and tell him what is your pleasure *


On the auspicious occasion of your birth, we will try to reveal the truth of your teachings. The name you call Self is actually a journey from self-realization to God-realization.


The blessed words of Allama Muhammad Iqbal, may God bless him and grant him peace

Min Arfa Nafsa Qad Arfa Rabha

He who has recognized his self is as if he has recognized his Lord


*Glory to God*

*Khodi Ra Fash Tandidan Biya Moz*


Sir, if you want to know God, then learn the lesson of self-knowledge

Now who will teach this lesson of self-realization and where is complete self-realization even beyond self-realization?



Post a Comment

0 Comments