Boxed(True/False)

header ads

Story Of IBLEES & His Army - Exposing The Devil's TRICKS ...




                  *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*

                  السلامُ علیکم سالکینِ حق

آج کا موضوع بہت خوبصورت ہے ابلیس اپنے وزیرو

 مشیروں کی محفل میں ان سے راز و نیاز میں مشغول تھا کہ عارفِ لاہوری ڈاکٹر محمد علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ روحانی پرواز سے اس محفل میں جا پہنچے اور وہاں ابلیسیت پر مبنی منصوبوں کی خبر پا لی اور راہِ حق کے مسافروں پر وہ ابلیسی منصوبوں کو عیاں کر دیا جو خبر ہم نے پائی ہے سوچا آپ جیسے عاشقین و محبینِ الٰہی کی نظر کر دیں


ابلیس اپنے وزیروں مشیروں سے کچھ اس انداز میں ہمکلام ہوا 


🎭  *چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئِیں تو خوب*

        *یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں*


ابلیس یوں گویا ہوا کہ دیکھو میرے ساتھیوں دھیان رکھنا کہ اسلام اور حقیقتِ اسلام دنیا اور خاص کر مسلمانوں کی نظر سے پوشیدہ رکھنا ضروری ہے اسلام اور اسلام کی روح علمِ نفس و شیطان جتنا اس دنیا سے پوشیدہ رہے گا اتنا ہی یہ ہمارے حق میں بہتر ہے اور یہ خوشخبری بھی سن لو یہ سب سے بہتر و خوب وقت ہے جس میں تم میری ابلیسیت کے تمام ہتھیاروں کو بروئے کار لا کر روحِ قرآن و تصفیہ و تزکیہ ذات کے معاملات سے مسلمانوں کو اتنا دور لے جاؤ کہ یہ حقیقت کے لاکھوں میل دور سے بھی نہ گزر سکیں

یہ وہ وقت ہے انسانوں کے روپ میں چھپے میرے پیروکار جن کو خاکی ابلیس سمجھو انہوں نے ایسے جال بچھائے ہیں کہ مومن اپنی حقیقت کو بھول کر خرافات میں کھو گیا ہے اور یقین سے محروم ہو گیا وہ جو اللہ پر یقینِ کامل سے کائنات کے رازوں سے پردے چاک کرتا تھا آج وہ خوب وقت ہے کہ ہمارے خاکی شیطانوں کی بدولت اس کو یقین کی دولت محروم کر دیا گیا وہ بس اب اللہ کی راہ کو بھی عقلِ معاش کے پیمانوں میں ڈھال کر تلاشِ حق کرتا ہے 

حالانکہ اس کو بتایا بھی گیا ہے کہ 


*عقل آمد دین و دنیا شد خراب*

*عشق آمد بر دو عالم کامیاب*


عقل کے محدود پیراؤں میں پھنسنے والے کی دین و دنیا دونوں خراب ہو جاتی ہیں اور عشق تمام حجابات جلا دیتا ہے مگر میرے خاکی شیطانوں نے اس خوبصورتی سے عقل کے جال میں لا پھنسایا ہے اب یہ مکمل ہماری غلامی میں ہے اور اس کو تو اقبال نے بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے

 

*غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں*

*جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں*


اب تم نے دھیان رکھنا ہے کہ کہیں یہ غلامی سے نکل کر کسی آزاد انسان سے نہ جا ملے اور راہ تصوف انسان کو آزاد کر دیتا ہے ہر طرح کے خواہشات و لذات سے دھیان کرنا کہیں یہ کسی اہل حق کی صحبت میں نہ جانے پائے اگر ایسا ہوا تو اس میں ذوقِ یقین پیدا ہو جائے گا اور یہ تمام حجابات کو توڑ کر اپنے اصل کو لوٹ جائے گا 


🎭  *ہے یہی بہتر الٰہیات میں اُلجھا رہے*

    *یہ کتابُ اللہ کی تاویلات میں اُلجھا رہے*


پھر ابلیس گویا ہوا اے مشیرانِ خاص ! تم نے توجہ یہی دینی کے یہ مسلمان مسئلہ مسائل میں الجھا رہے قرآن کو لے کر کبھی بحث مباحثے کرے کبھی کسی پر کفر کے فتوے لگائے دیکھو اس کو کبھی حقیقتِ کلام الٰہی کے حاملین تک نہ پہچنے دینا اس کو قرآن کی تاویلوں میں لگاؤ اپنے مرضی کے معنی و مفہوم کرتا رہے اور حضور سرور عالم احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تعلیمات سے قرآن کی جو حکمتیں کھول دی گئی ہیں ان کی طرف توجہ نہ دے بس اس کو لایعنی معاملات میں الجھاؤ اس کو روایتی طریقہ سے قرآن کی عربی پڑھاؤ قرآن کو خوش الحانی سے پڑھنے پر لگا دو رٹی رٹائی تقریروں پر لگا دو دیکھو اس کو کسی صورت روحِ قرآن کی طرف مت لوٹنے دینا کیونکہ اگر اس کو روحِ قرآن سے اپنی حقیقت کا اندازہ ہوگیا تو یہ خود کی پہچان کرکے اپنے رب کی پہچان تک پہنچ جائے گا


🎭    *توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہات*

           *ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات*


دیکھو مشیرانِ خاص ! سن لو یہ مومن اگر اپنی اسلامی تعلیمات کی اصل سے آشنا ہوگیا اس کو اگر سمجھ آگئی کہ اسلام و احسان اصل میں اس کو ایک حقیقی اور اچھے انسان کی صورت میں معاشرہ میں لوٹا کر معاشرہ کی اصلاح کرنا چاہتا ہے اور یہ راہِ حق کا مسافر بن کر اپنی صفائی کرکے ایک اچھا انسان بن کر ایک صاحبِ کردار بن کر معاشرہ میں ابھر آیا تو یقین جانو یہ جو چھ عالمین تک اس کے نوری وجودوں کو جو میں نے قید میں ڈالا ہوا ہے اور اس کی پرواز کو اس عالمِ ناسوت تک محدود کیا ہوا ہے تو اس کی تکبیریں نہ صرف میرے اس طلسمِ عالمین کو توڑ ڈالیں گی بلکہ یہ دوسرے لوگوں کو بھی اس طلسم سے نکال لے گا اور یہ جو میں نے دورِ بنو امیہ سے مسلمانوں کی گرد یہ جال بڑی مشکل سے بنا ہے کہ اللہ تک پہنچنا فقط ظاہری عبادات سے ہے قرآن فقط ثواب کی کتاب ہے یہ آمین کہنا ، رفع الیدین ، انگوٹھے چومنا ، امام کے پیچھے الحمد پڑھنا نہ پڑھنا ان مسائل میں الجھا کر میں نے ان کو اصل اسلامی روح سے بہت دور جا کھڑا کیا ہے کسی کو اہلبیت کی محبت میں مبتلا کرکے دوسرے سے الجھایا ، کسی کو صحابہ کی آڑ میں اہلبیت کے خلاف کر دیا ، کسی نے کیا شروع کرا دیا کسی نے کیا الغرض حضور سرور عالم احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تعلیمات و سیرت سے دور کر دیا ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ عشق و محبت کا جذبہ بھی ان سے چھین لیا ہے ، ان میں تفرقے ڈال کر ان سے  بھائی چارہ چھین لیا ہے ، ان سے وہ حقیقت قرآن اور روح قرآن تک رسائی چھین لی ہے جس سے ان کے اسلاف نے پوری دنیا پر حکومت کی تھی 

لہذا مشیرانِ خاص اب تمہارا خاص مشن ہے ان کے قلوب و اذہان کو ایمان و عشق کی روشنی سے خالی رکھنے کی تدبیریں کرنا تمہارا کام ہے تاکہ کہیں یہ اپنے اصل کو نہ لوٹ جائیں 


🎭      *ابنِ مریم مرگیا یا زندۂ جاوید ہے*

  *ہیں صفاتِ ذاتِ حق ، حق سے جدا یا عین ذات ؟*


دیکھو مشیرانِ خاص ان کو بس اسی بحث و مباحثہ میں ڈالے رکھو آج کے مسلمانوں میں یہی موضوع کی بحث چھیڑ دو کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مصلوب ہوئے کہ نہیں کیا ان کا انتقال ہوگیا ہے یا پھر وہ زندہ ہیں ایک فرقے کو اس بحث میں مصروف کرو اور دوسرے یہ جو صوفیاء بنے پھرتے ہیں ان کو بھی لایعنی بحث میں ڈالو ان کو صفات و ذات کی بحثوں میں مبتلا کرو ان کو وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے مسئلوں میں الجھا دو تاکہ کہیں یہ عمل کی راہوں پر نہ آجائیں ان کو اپنے اپنے سلاسل پر متکبر کر دوں ہم اعلیٰ وہ ادنی ہم ڈائیریکٹ جنت و قرب کا ٹکٹ لیے ہوئے مشیران خاص  اس بات کا خاص خیال رکھنا کہیں ان کی صحبت ایسے شخص سے نہ ہو جائے جو ان فہم و ادراک کھول دے جو ان کو روحِ قرآن کی طرف نہ لے جائے اور حقیقت اسلام کی روح تک پہنچنے میں مدد نہ کردے ان کو علوم و معرفت کے ذریعے ایک دوسرے کا دشمن کر دو اگر ان کا آپس کا بھائی چارہ اور محبت قائم ہوگئی تو ہمارا باطل نظام دھڑام سے گر جائے گا ساری محنت ضائع ہو جائے لہذا یہ علماء و صوفیاء پر خاص نظر رکھو انہیں کے ذریعے سے ہم کامیاب ہونگے


🎭       *آنے والے سے مسیحِ ناصری مقصود ہے*

      *یا مجدّد، جس میں ہوں فرزندِ مریم کے صفات؟*


مشیرانِ خاص! سنو ایک اہم نکتہ جس سے کافی مسلمانوں کو دین اسلام سے مردود کر سکتے ہو وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا اور دوسرا یہ کہ صفاتِ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور گا اس پر کسی انتہائی نیک و پارسا کو بننے والے شخصیت پرست کو بھٹکا کر نئے نئے فرقوں کی تشکیل کرا دو جیسا یہ قادیانی میں دو فرقے بنوائے ہیں ایک جو اس کو میسح مانتا اور دوسرا مجدد زماں کہ یہ میسح کی صفات لیے ہے دین کو زندہ کر رہا ایسے ہی فتنے پیدا کرو

 آج کے دور میں بھی ایسے اور بھی فضول لوگ موجود ہیں جو تمہاری پیروی کو تیار بیٹھے ہیں سنو ایک فتنے کی تشکیل کر چکا ایک شخص کو امام مہدی بنا کر لوگوں کے قلوب و اذہان سے کھیلنے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے تم بس کم علم لوگوں کو اس تک لے جاؤ اور پھر وہ خاکی شیطان ان سے اپنے کلمے بھی پڑھائے گا ان کو مرتد بھی کرے گا

دیکھیو رنگِ تصوف میں ہندوانہ عقائد کو شامل کرا دو اور لوگوں کے سامنے وہ احسان کی تعلیم نہ آنے دینا جس سے وہ اپنی اصل حقیقت تک نہ پہنچ جائیں ایسے فتنہ پرور ذہنوں پر قبضے کرکے لوگوں کو تاریکیوں میں دھکیل دو


🎭      *ہیں کلامُ اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم*

        *اُمّتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟*


مشیران خاص ! میری طرف حجابات کا ایک تحفہ بھی لو مسلمانوں کو عمل سے ہٹاؤ اور ان کو اس بحث میں مبتلا کر دو کہ یہ قرآن کے الفاظ پہلے سے موجود تھے یا جب یہ نازل پوا تو اس کے ساتھ ہی وجود میں آئے

مسلمانوں کو اگر ان مسائل میں نہ الجھاؤ گے تو یہ قرآن کے ان مسائل کو چھوڑ کر حقیقتِ قرآن اور اپنی صفائی پر توجہ دینے لگ جائے گا اور اگر ایسا ہوگیا تو یاد رکھو اس میں نورِ الٰہی کا جو سمندر موجزن ہے وہ تاریکیوں کو لے ڈوبے گا

اس کو تم فرقوں کے مسائل میں الجھاؤ ہم حنفی ہم اہل تشیع ہم حنبلی وغیرہ وغیرہ یہ ان فروعی مسائل کو ہی سمجھ کچھ سمجھ بیٹھیں ان کو بس فرقوں کے دقیق علمی نکات میں الجھا کر بحث مباحثہ کرا لو یہ غلط وہ ٹھیک تاکہ ان کے پیچھے امت بھی وقت ضائع کرتی رہے اگر ایسا نہ ہوا تو ان کو سمجھ آ جائے گی اصل گروہ وہی کامیاب ہے حضور سرور عالم احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی پیروی اور اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پیروی پر قائم ہے یہ کسی ایک فرقے کیلئے نہیں کائنات کا جو بھی شخص ایسا کرے گا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اصحاب کی پیروی کرے وہ کامیاب ہے چاہے وہ کوئی نیا فرقے کا نام رکھ لے مگر یہ پیروی اس کے ظاہری و باطنی کردار سے ظاہر ہوگی وہ اس پیروی کی بنیاد پر دوسروں کو لعن طعن نہیں بلکہ اپنی ذات سے کردار سے ظاہر کر رہا ہوگا 


🎭     *کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دَور میں*

             *یہ الٰہیات کے ترشے ہُوئے لات و منات؟*


ابلیس یہاں طنزاً مسکرا کر اپنے مشیران خاص سے مخاطب ہوا کہ دیکھو یہ جو اتنے باطنی و ظاہری بت میں ترشوائے ہیں کیا یہ کافی نہیں مسلمانوں کو اپنی حقیقی راہ سے دور کرنے کیلئے بس تمہارا کام یہی ہے میرے اس مشن کو تھام لو اور ان بتوں کے چنگل سے مسلمانوں کو نکلنے نہ دینا کہیں یہ ان بتوں کی غلامی سے نکل کر آزادی ذات تک نہ پہنچ جائیں اس بات کی ڈیوٹی اب تمہاری ہے 

ان کو فلسفیانہ بحثوں میں مبتلا کر دو ان کو فروعی مسائل میں الجھا کر دین اسلام کی حقیقی روح سے دور لے جاؤ تاکہ یہ انہیں بتوں کی پرستش پر قائم و دائم رہے اور وحدت کے سفر پر نہ نکل جائے 

دیکھو ان کو اپنے نفسانی حجابات کا علم نہ ہونے دینا یاد رکھو کوئی آزاد پیدا نہ ہونے پائے اگر کوئی آزادی کو جا پہنچے تو پھر کوئی کوشش کرنا کوئی ان کے ساتھ نہ جڑ جائے اگر ان سے جا ملے تو عقل کے حجابوں سے اس شخص اور اس کی صحبت سے فیض نہ لینے دینا کہیں اس پر بھی آزادی کا رنگ نہ چڑھ جائے 


🎭        *تم اسے بیگانہ رکھّو عالمِ کردار سے*

    *تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مُہرے ہوں مات*


مشیرانِ خاص یاد رکھو کسی ایسی صحبت نہ جانے پائے کوئی بھی شخص جہاں اس کے کردار کی تشکیل ہونا شروع ہو جائے جہاں اس کی توجہ اپنی طرف نہ کرائی جائے جہاں اس کو اپنی تنہائیوں کو پاک کرنے اور اپنا کردار مضبوط کرنے کا سبق نہ مل جائے جہاں سے اس کو وہ نورِ الٰہی نہ مل جائے جس سے وہ اپنا تصفیہ ( صفائی نفس ) نہ کر لے جہاں کوئی ایسا آزاد شخص اس کو ہمارے نفسانی و باطنی حجابات سے آگاہ کر دے بس کسی شخص کو ایسی صحبت تک نہ جانے دینا اگر ایک شخص بھی اس صحبت تک پہنچا وہ ہمارے اس باطل نظام کو آگ لگا دے گا جب تک یہ کردار اور اپنے نفس سے ناآشنا ہے یہ ہمارے ہاتھوں میں ایسا ہے جیسا باز کے ہاتھوں میں چڑیا کا بچا ہم اس کو اپنی مرضی سے چلائیں گے مگر اگر یہ آزاد لوگوں کی صحبت میں جا بیٹھا تو یہ اللہ کے قربتوں سے وہ باز بن کر ہم پر لپکے گا کہ یاد کرو یہ میری گردن بھی توڑنے کی بھرپور کوشش کرے گا لہذا اس کو غلامی میں رکھو کردار والوں کی صحبت تک نہ پہنچنے دو 


🎭    *خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام*

          *چھوڑ کر اَوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات*


ابلیس گویا مشیرانِ خاص سے دیکھو ہمارے اس باطل نظام ابلیسیت کی خیر و عافیت اسی میں ہے کہ یہ مومن ہمیشہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاؤہ لایعنی چیزوں کی غلامی میں مبتلا ہو جائے یہ اپنے راہ حق کو چھوڑ کر کبھی عملیات میں کھو جائے تو کبھی مغرب کی رنگینیوں میں الجھا نظر آئے ، کبھی یہ کشف و کرامات کا طالب ہو ، کبھی دوسرے مذاہب کے چلے مراقبے کرتے نظر آئے ، کبھی یہ نشان لگا کر اس پر غور کرتا رہے دیکھنا اس کو کہیں ابھی تعلیمات کی خبر نہ ہو جائے یہ حقیقت کو بھول جائے اور ماورائے عقل چیزوں کا طالب ہو جائے ایسی میں ہماری باطل  نظام کی خیر اگر یہ حق پرستوں کی محفل و صحبت تک پہنچ گیا تو اپنی اصلاح بھی کرے گا ساتھ دوسروں کی اصلاح میں بھی مشغول ہو جائے گا 


🎭   *ہے وہی شعر و تصوّف اس کے حق میں خوب تر*

       *جو چھُپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات* 


مشیرانِ خاص سنو غور سے مسلمانوں کو شاعری اور ایسے غیر اسلامی تصوف میں الجھاؤ کہ ان سے حقیقت کو چھپا دے اور ماورائے عقل دنیا کی رنگینیوں طرف ان کی رغبت کرا دے ان کو مزاروں پر دھمالیں ڈالنے کی طرف راغب کرو کسی شخصیت پرستی میں مبتلا شخص پر سارے وہ شعرِ تصوف فٹ کرکے ان کو گمراہ کرو دیکھو کوشش کرنا ان کو حق پرست شخص کے قریب مت جانے دینا اور اگر چلے جائیں تو اس سے ہر صورت دور کرنے کی کوشش کرنا 

انکو مادیت پرستی میں مبتلا کرو ان کو جنسی مسائل میں الجھاؤ ان کو اخلاق و کردار کی طرف مت لوٹنے دینا ان کو بس قوالیوں اور دھمالوں کا شیدائی بنا دو یہ کے رہبروں کو ایسا ہی بنا دینا تاکہ بس یہ اسی خول میں محدود ہو کر رہ جائیں اور اپنے کردار کی اصلاح میں مشغول نہ ہو جائیں حالانکہ ان کو معلوم نہیں ہم نے جتنے جال بچھائے ہیں یہ تو خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیری ادا کرنے کا وقت تھا مگر تم ان کو اسلاف کی تعلیمات کی طرف مت لوٹنے دینا اور شعر و شاعری اور جنسی عشق پرستی میں مبتلا رکھنا


🎭 *ہر نفَس ڈرتا ہُوں اس اُمّت کی بیداری سے مَیں*

       *ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات*


دیکھو مشیرانِ خاص حقیقت بھی سنو مجھے نا اس مسلمان امت سے بہت ڈر لگاتا ہے کیونکہ جب اس کے اسلاف بیدار ہوئے تو انہوں نے ہمارے نظام باطل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی کیونکہ دین اسلام فقط نماز روزہ کا نام نہیں یہ خود احتسابی کا نام ہے اگر مسلمان میں خود احتسابی آ جائے تو یہ نا صرف اپنا محاسبہ کرکے اپنا محافظ ہو جاتا بلکہ یہ پھر پوری کائنات کو محاسبہ میں لانے کی قوت رکھتا ہے کیونکہ اس کے اسلاف نے یہ سب کچھ کرکے اس کیلئے نشانیاں چھوڑی ہوئی ہیں 

دینِ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو پوری کائنات کو تصرف میں رکھتا ہے اور یہ بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ کائنات میں کہیں خرابی پیدا نہ ہو اس لیے تو قرآن میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ مسلمانوں سے نہیں پوری انسانیت سے ہی مخاطب نظر آتا ہے


🎭 *مست رکھّو ذکر و فکرِ صُبحگاہی میں اسے*

       *پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے*


مشیرانِ خاص دیکھو اس کو خانقاہوں میں ہی محصور کر دو اس کو ذکر و فکر و چلہ کشی میں ہمیشہ کیلئے مبتلا کر دو اس کو یہ بات نہ سمجھ آنے دینا کہ یہ ذکر و فکر و چلہ کشی اس لیے تھی کہ تم نفس کی قید سے آزاد ہو جاؤ تمہارا نفس امارہ سے نفس کاملہ تک جا پہنچے اور اس سب کے بعد اس نے خانقاہ سے نکل اصلاحِ معاشرہ کی کوشش کرنی تھی 

اس کو ایسے لوگوں سے جوڑو اور ایسے لوگوں کو تیار کرو جو علم و فہم کے قریب سے ہی نہ گزریں بس اللہ اللہ کرتے رہیں اور اندھوں کی طرف چلتے رہیں کبھی قوالیوں پر دھمالیں ڈالیں کبھی وجد میں ادھر ادھر تھرکتے پھرکتے رہیں اور انہیں معاملات کو منزل و مقصود سمجھ کر اپنی اصل حقیقت سے دور رہیں 

ان کو کسی ایسے راہ حق کے مسافر کے ساتھ نہ جڑنے دینا جو ان کے کردار کو بلند کر دے اور ان کے نفس کی اصلاح نہ کردے 

دیکھو ان کو بس اس میں الجھائے رکھنا وہ پیر صاحب بہت اعلیٰ پائے کے ہیں جس کے ہزاروں لاکھوں مرید ہیں دیکھنا کہیں ان پر ایسے پیروں مریدوں کی حقیقت نہ کھل جائے 


*جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں*

*بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے* 


ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ اور یہ حقیر آپ کیلئے ابلیس کی مجلس سے یہ خبر لے آیا ہے اب ہم نے اپنا محاسبہ کرنا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں 

ایسا ہی ظلم ہمارے اصلاح معاشرہ کرنے والی خانقاہوں کے ساتھ ہو گیا ہے اب فقط بندے و مرید ہی گنے جاتے ہیں ان کو تولا نہیں جاتا کہ مرید کیسا ہے پیر کیسا ہے 

اسی جمہوریت کی آڑ لے کر ناقص لوگ مسلط ہو جاتے ہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں ایسے لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے اور یہ تمام معرفتِ ابلیس جو کھولا گیا ہے مالک ہمیں اس کی کامل سمجھ دے اور ان حجابوں سے نکل کر حق پرستوں کی صحبت میں آنے کی توفیق عنایت فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین 

🌹 صَلَّی اللہُ عَلٰی حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلہٖ وَسَلَّم 🌹



Post a Comment

0 Comments